Name:  Capture.JPG
Views: 36
Size:  30.2 KB

اسے کہتے ہیں بغل میں چھری منہ میں رام رام ۔۔۔ !
بے نظیر بھٹو نے کے الیکٹرک کی نجکاری کا آغاز کیا اور مشرف دور میں اس کے 76 فیصد شیرز 1600 ارب روپے میں ایک عرب کمپنی کو بیچ دئیے گئے ۔
اس کے بعد " ایک زداری سب پہ بھاری" آیا ۔ اس نے 2009 میں اس کمپنی کو 1300 ارب روپے واپس کر دئیے ۔ یوں ان کو پورا کے الیکٹرک صرف 300 ارب میں پڑا ۔
اس کے بعد مذکورہ کمپنی نے فوری طور پر کے الیکٹرک کے 1200 کلومیٹر لمبے اور لاکھوں ٹن وزنی تانبے کے تار ہٹا کر ان کی جگہ ایلومینیم کے سسستے تار لگا دئیے ۔
تانبے کے ہٹائے جانے والے تاروں کی قمیت 750 ارب روپے بتائی جارہی ہے ۔
اب خبر ہے کہ 750 ارب روپے مالیت کے وہ تانبے کے تار غائب ہیں ۔ یہ تانبا مبینہ طور پر زرداری ، فریال تالپور اور مذکورہ کمپنی نے ملکر بیچ دیا ہے ۔
تار بیچنے کے بعد عرب کمپنی کو کے الیکٹرک بلکل مفت میں پڑا ہے ۔ سنا ہے زرداری اینڈ کمپنی کو اس کے بدلے متحدہ عرب امارات اور دبئی میں سینکڑوں ایکڑ زمینیں بھی دی گئی ہیں جو کمیشن کے علاوہ ہیں ۔
ایلومینیم کے تار لگانے کا کیا نقصان ہوا ہے ؟
ایلومینیم کے تاروں کی وجہ سے 4/5 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ضروری ہے خاص کر گرمیوں میں ورنہ ان تاروں کے پگھلنے کا خطرہ ہے ۔
یہ تار مسلسل ٹرپ ہوتے رہتے ہیں ۔ ان میں بجلی کے لیے مزاحمت کی وجہ سے یہ ہر دو تین منٹ بعد میٹر کو تگنی رفتار سے گھما دیتے ہیں جسکی وجہ سے کمر توڑ بجلی کے بل آتے ہیں ۔ ( کے الیکٹرک کے شیر ہولڈر چودھری مظہر کے مطابق صرف اس سال کے الیکٹرک نے حیران کن طور پر 16 ارب روپے کا منافع کمایا ہے
تانبا ایلومینیم سے 3 گنا مہنگا ہے ۔ اور وہی تانبا اب اگر دوبارہ خریدنا پڑگیا تو 1500 ارب روپے میں پڑے گا ۔ کون خریدے گا ؟؟
(برسبیل تذکرہ 1300 ارب اور 750 ارب میں کوئی بھی بڑا ڈیم آرام سے بن جاتا ہے )
اس سارے معاملے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس داخل کیا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ اس کیس کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں پچھلے کئی سال سے۔۔۔ !
نیپرا نے اس گھپلے کے خلاف ایکشن لیا تو عدلیہ نے ملوث لوگوں کو سٹے آرڈر دے کر نیپرا کو بھی بے بس کر دیا ۔۔۔۔!
انہی وجوہات کی بنا پر کراچی میں تباہ کن لوڈ شیڈنگ ہے اور لوڈ شیڈنگ ہی کی وجہ سے پانی بھی نایاب ہے ۔۔۔ !
گرمی میں پانی اور بجلی کے بغیر ہزاروں لوگ مر گئے اور آج بھی مرے ہیں ۔
اس پر آپ سندھ حکومت کا دھرنا ملاحظہ کیجیے اور بلاول بھٹو کی تقاریر۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے ڈرامے ۔۔۔ کس قدر ظالم اور منافق ہیں مردود لوگ ۔۔۔