Results 1 to 1 of 1

Thread: ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر شہری کی محسن ہے

  1. #1
    Moderator Array mahima's Avatar
    Join Date
    Jan 2007
    Age
    30
    Posts
    10,670
    Country: Pakistan
    Rep Power
    21

    ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر شہری کی محسن ہے

    Name:  11226555_432404000264320_3021224804370687578_n.jpg
Views: 55
Size:  17.5 KB


    یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی۔


    پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔

    سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی کوڑھ اچھوت مرض

    ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے

    کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں

    یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔

    پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے

    یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں

    یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں لوگ آنکھ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے

    ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔

    _______
    یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی

    زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیایہ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا

    اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک اپنی جوانی اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی

    انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا

    کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔

    چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے ان کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا

    انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوایہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی

    جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔اس کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی

    یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا

    اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی

    ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔

    یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیاان ہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا

    ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے

    یہ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی

    جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔

    وہ پاکستان میںجزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔
    یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔

    ان کی کوششوں سے سندھ پنجاب خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو لپریسی کنٹرولڈ ملک قرار دے دیا

    پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا


     


    یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔

    حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی
    #
    اسے ہلال پاکستان ستارہ قائداعظم ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔

    جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ڈیزرو کرتی ہے

    جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا

    بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے

    جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔

    ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ھے۔۔

    ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے اس پاکستان میں آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے ۔

    ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔

    ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ خاتون اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے

    اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔

    یہ لوگ ہمارے محسن ہیں چنانچہ ہمیں ان کی ایوارڈز سے بڑھ کر تکریم کرنا ہو گی۔
    Share it for respect And salute
    Last edited by mahima; 06-27-2015 at 04:37 PM.



Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)







Similar Threads

  1. Replies: 0
    Last Post: 05-24-2015, 05:50 AM
  2. Replies: 3
    Last Post: 08-20-2013, 04:14 PM
  3. Replies: 2
    Last Post: 04-07-2013, 04:25 PM
  4. Replies: 2
    Last Post: 01-22-2013, 02:29 PM
  5. Replies: 0
    Last Post: 07-29-2012, 03:48 PM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  



Get Daily Forum Updates

Get Most Amazing E-mails Daily
Full of amazing emails daily in your inbox
Join Nidokidos E-mail Magazine
Join Nidokidos Official Page on Facebook


Like us on Facebook | Get Website Updates | Get our E-Magazine