ایسا لگ رہا ہے جیسے ایاز صادق کی چھٹی ہونیوالی ہے ۔ تحریک انصاف کے وکیل انیس ہاشمی نے زبردست دلائل دئیے ہیں اور یہ بات سامنے آئی کہ 45000 سے زائد ووٹ ایسے ہیں جو جعلی یا مشکوک ہیں۔
Name:  10406597_826023427483023_3991195337030032138_n.jpg
Views: 132
Size:  49.6 KB
* پہلی بات تو یہ سامنے آئی ہے کہ 1380 ووٹ ایسے ہیں جن کی کاؤنٹرفائلز ہی غائب ہیں۔اگر 1380ووٹوں کی کاؤنٹرفائلز ہی غائب ہیں تو ان ووٹوں کی حیثیت صفر ہوجاتی ہے۔

* دوسری بات یہ سامنے آئی ہے کہ 23621 کاؤنٹرفائلز پر پریزائیڈنگ افسر کے دستخط اور مہر نہیں ہے۔ ن لیگ کے وکلاء ان کے بارے میں یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ پریزائیڈنگ افسر ان کی ٹریننگ نہیں تھی اور وہ دستخط اور مہرلگانا بھول گئے ہوں گے ۔ پریذائیڈنگ افسر سے 100 ووٹوں پر دستخط اور مہر مس ہوسکتی ہے۔ ہزار پر مس ہوسکتی ہے لیکن 23621 بہت بڑی تعداد ہے جو ڈالے گئے ووٹوں کا 15 فیصد بنتا ہے۔

* تیسری بات یہ سامنے آئی ہے کہ 1715 کاؤنٹرفائلز پر انگوٹھے کے نشانات ہی غائب ہیں۔
اگر کاؤنٹرفائلز پر انگوٹھے کا نشان ہی نہیں ہے تو ان ووٹوں کی کیا حیثیت ہے؟

* چوتھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ 312 کاؤنٹرفائلز بغیر کسی سیریل نمبر کے ہیں۔

* پانچواں 370 ووٹ نادرا کے شناختی کارڈز کے بغیر ڈالے گئے ہیں۔

* چھٹا 255 ووٹ دو بار ڈالے گئے ہیں

* ساتواں 570 ووٹ ایسے ہیں جن کا تعلق این اے 122 سے نہیں ہے۔


 


* آٹھواں 6123 ووٹ ایسے ہیں جن کے شناختی کارڈ نمبرز ہی جعلی ہیں۔ چئیرمین نادرا نے سپلیمنٹری رپورٹ بناکر ان جعلی شناختی کارڈز کو اصلی کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن اسے ٹریبونل میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کافی سبکی اٹھانا پڑی ہے۔

* نواں 3800 ووٹ ایسے ہیں جن کے بارے میں چئیرمین نادرا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ووٹ اصلی ہیں لیکن شناختی کارڈ نمبر کے ڈیجیٹ غلط لکھے گئے ہیں۔ اگر جج صاحبان ایمانداری سے فیصلہ کریں تو یہ ووٹ بھی جعلی ہی شمار ہوں گے کیونکہ نادرا کا مینڈیٹ یہ دیکھنا ہے کہ کاؤنٹر فائلز پر لکھا گیا شناختی کارڈ نمبر ٹھیک ہے؟ مینوئل طریقے سے ووٹوں کی جانچ کرنا نادرا کی ڈومین میں آتا ہی نہیں ۔ بہرحال ان ووٹوں کو اصلی مان بھی لیا جائے تو پھر بھی سردار ایاز صادق فارغ ہوتا نظر آتا ہے۔

* دسواں : این اے 122 کے 2 درجن سےز ائد پولنگ بیگز کھلے پائے گئے جس کا مطلب ہے کہ ان پولنگ بیگز میں کوئی گڑبڑ کی گئی ہے

* گیارہواں: 70 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 15 اور 59 کے فارم 14 غائب ہیں۔اگر فارم 15 غائب ہے تو رزلٹ کیسے بن گیا؟

* بارہواں: این اے 122 سے سینکڑوں ووٹس پی پی 147 اور این اے 124 کے برآمد ہوئے۔ یہ ووٹ یہاں کیسے آئے؟ یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔

مختصر یہ کہ جہاں این اے 122 میں دھاندلی اسٹیبلش ہوئی ہے وہاں الیگل پریکٹسز، کرپٹ پریکٹسز بھی ہوئی ہیں اور الیکشن کا قانون بالکل واضح ہے کہ اگر کسی حلقے میں کرپٹ پریکٹسز پائی جائیں تو اس حلقے کا رزلٹ ہی کالعدم قرار ہوجاتا ہے۔ دھاندلی تو اسٹیبلش ہوگئی، اب الیکشن ٹریبونل کے وکیل پر منحصر ہے کہ وہ ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں یا شریف برادران کے دباؤ پر؟ .