روزے کی نیت ان الفاظ سے کرنا... "وبصوم غد نویت من شہر رمضان"
یہ الفاظ قرآن و حدیث میں کہیں ثابت نہیں ہیں بلکہ کسی جھوٹے انسان کے گھڑے ہوئے ہیں.. تمام علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ سحری کے وقت کی یہ دعا یا نیت "غیر مسنون" ہے یعنی کسی حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے..
دین قرآن وحدیث کا نام ہے لوگوں کی باتیں ہرگز دین نہیں ہوسکتیں.. زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں.. نیت ایک قلبی عمل ہے اس کا زبان سے کوئي تعلق نہیں.. اس لیے مسلمان کو دل سے ارادہ کرنا چاہیے کہ وہ کل روزہ رکھےگا.. اس کے لیے مشروع نہیں کہ وہ زبان سے یہ کہتا رہے میں روزے کی نیت کرتا ہوں یا میں حقیقتا تیرے لیے روزہ رکھ رہا ہوں یا اس طرح کے دوسرے الفاظ جو آج کل لوگوں نے ایجاد کررکھے ہیں وہ سب بدعت میں شمار ہوتے ہیں.
صحیح نیت یہی ہے کہ انسان دل سے ارادہ کرے کہ وہ صبح روزہ رکھے گا ، اسی لیے جس کے دل میں یہ بات آگئي کہ وہ صبح روزہ رکھے گا اس کی نیت ہوگئي.
رمضان کے روزے کی نیت فجر سے پہلے کرنی ضروری ہے.(ابوداود:2454)


 




Name:  11412416_484125548421155_2625106335056613129_n.jpg
Views: 26
Size:  30.8 KB