ناحق ہے دل کو صبح شبِ غم کا انتظار
تھوڑی سی اب ہے رات بہت کچھ گذر گئی

عمر رواں کی تیز روی کا بیاں کیا
اک برق کوند کر ادھر آئی اُدھر گئی

... اس سے تو تھا مرے لئے بہتر کہیں عدم
دو دن کی زندگی مجھے بدنام کر گئی

شادؔ عظیم آبادی