Name:  photo-jamaat-e-islami-protest-20-04-2012.jpg
Views: 117
Size:  159.0 KB
آج سے کئی برس پہلے کی بات ھے جب میں مڈل میڑک کا سٹوڈنٹ* تھا ، عمران خان سیاست میں نیا نیا تھا ، جمائمہ سے شادی کرچکا تھا ، اور سب مذھبی سیاسی جماعتیں ھاتھ دھو کر عمران کے پیچھے پڑی ھوئی تھیں۔ اس زمانے میں جنرل الیکشن ھوا اور عمران خان کی پارٹی ایک سیٹ بھی نہ جیت سکی ، کچھ دوست جو کہ ایک مذھبی جماعت سے تعلق رکھتے تھے ، میرے ساتھ گپ شپ کے دوران قہقہے لگا رھے تھے کہ ٹھیک ھے ھم کوئی واضح اکثریت حاصل نھیں کر سکے لیکن خوشی اس بات کی ھے کہ یہودیوں کی پارٹی کو ایک سیٹ بھی نہ مل سکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج اس بات کو کم و بیش 18 سے بیس سال ھونے والے ھیں ، پاکستان کی سیاست بدل گئی ، لوگوں کی سوچ بدل گئی ، کچھ مذھبی جماعتوں سے عمران کا اختلاف بڑھ گیا ، کچھ سے اتحاد ھوگیا ، لیکن ایک تنگ نظر سوچ نہ بدل سکی ، مجھے آج بھی شک ھے کہ ایم کیو ایم کے جیتنے پر شاید مذھبی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اتنی تکلیف نھیں ھوئی ھوگی ، جتنی خوشی تحریک انصاف کے ھارنے پر خوشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ، جب سوچ تنگ نظر اور جمود کا شکر ھوجائے تو کوئی تبدیلی آنا ممکن نھیں۔ میں آج واقعی جماعت اسلامی کے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ھوں ، اور انھیں مبارکباد پیش کرتا ھوں کہ مسلم لیگ نون کے ان کو الیکشن میں سپورٹ دی ، اور دوسری مبارکباد اس بات کی کہ تحریک انصاف سیٹ ھار گئی۔ اور انصافینز کے لیے یہی پیغام ھے کہ اس میں سبق یہی ھے کہ جماعت اسلامی کو نواز شریف یا فصل الرحمن جیسے لوگ تو آگے لگا سکتے ھیں ، لیکن عمران خان جیسے لیڈر کے ساتھ انکا ساتھ چلنا مشکل ھے۔ بیواقوف دوست سے عقلمند دشمن بہتر ھے۔
؎
دنیا تے جو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے
اس بے فیضے سنگی کولوں بہتر یار اکیلے۔۔۔