مزا تھا ان کو جو بلبل سے دوبدو کرتے
کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
مزے جو موت کے عاشق بیان کبھو کرتے
مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سے...
مگر زیارت دل کیونکر بے وضو کرتے
اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گے
تو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے
یقین ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کش
اٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے
سمجھیو دار رسن تا رو سوزن اے منصور
کہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے
نہ رہتی یوسف کنعاں کی خوبی بازار
مقابلہ میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے
چمن نہ تھا کہ زمانہ کے انقلاب سے ہم
تیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے
سراغ عمر گزشتہ کا لیجیے گر ذوق
تمام عمر گزر جائے جستجو کرتے

محمد ابراہیم ذوق