نظامِ نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں
ساحرلدھیانوی نے اپنے اشعار میں کیا تھا۔ 1944ء کے قحط بنگال کے بارے میں ساحر لدھیانوی کی نظم پڑھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خون دل میں انگلیاں ڈبو کر لکھی گئی ہو۔ بڑے سے بڑے اعدادوشمار بھی افلاس اور بھوک کا احساس ان اشعار سے بہتر بیان نہیں کر سکتے۔



جہانِ کہنہ کے مفلوج فلسفہ دانو
نظامِ نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں
یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا
کہ اِن پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے
زمیں نے کیا اسی کارن اناج اُگلا تھا
کہ نسلِ آدم وحوا بلک بلک کے مرے
ملیں اِسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں
کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
چمن کو اس لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا
کہ اسکی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں
زمیں کی قوتِ تخلیق کے خداوندو
ملوں کے منتظمو، سطلنت کے قرزندو
پچاس لاکھ افسردہ گلے سڑے ڈھانچے
نظامِ زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
خموش ہونٹوں سے دم توڑتی نگاہوں سے
بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں