زبان کی حفاظت:
اگر آپ کے پاس دو لباس ہوں ایک میلا اور خراب اور دوسرا اجلا اور اچھا تو آپ کون سا لباس پہننا پسند کریں گے؟؟
یقیناً آپ اجلا اور اچھا لباس پہنیں گے۔ آپ اچھے بھی اسی لباس میں نظر آئیں گے اور لوگ بھی آپ کو اسی لباس میں پسند کریں گے کیونکہ صاف ستھرا لباس انسان کو قابلِ عزت بناتا ہے۔ اسی طرح میلا اور خراب لباس انسان پر اچھا نہیں لگتا اور دیکھنے والوں کو بھی ناگوار ہوتا ہے۔
ہماری زبان کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اچھی اور شائستہ زبان ہمیں قابلِ عزت بناتی اور ہماری نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے جبکہ خراب اور بےہودہ زبان ہماری ساری عزت ختم کر دیتی ہے اور گناہوں میں اضافہ کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ لہٰذہ عقلمند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے :
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ روزِ قیامت لوگ اپنی زبان سے کاٹی ہوئی فصلوں کی بدولت ہی منہ کے بل یا ناک کے بل جہنم میں جائیں گے۔ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے۔
ابو مالک شعری رضی اللہ عنہ نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بالا خانے کن لوگوں کے حصے میں آئیں گے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پاکیزہ گفتگو کرنے والوں کے حصے میں۔ (طبرانی)
ہم اپنا جائزہ لیکر دیکھیں وہ کون کون سی خراب باتیں ہیں۔ جن سے بچ کر ہم اپنی زبان کو صاف اور شائستہ بنا سکتے ہیں۔ دنیا میں باعزت بن سکتے ہیں اور آخرت میں جنت کے بالا خانوں کے حقدار ہو سکتے ہیں۔