ایسے ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس,
دل نے جھیلے ہیں محبت میں وہ آزار کہ بس,

ایک جھونکے میں زمانے میرے ہاتھوں سے گئے,
اس قدر تیز تهى وقت کی رفتار کہ بس,

کل بھی صدیوں کی مسافت سے پرے تھے دونوں,
درمیاں آج بھی پڑتی ہے وہ دیوار کہ بس,

یہ جو اک زِد ہے کہ محسن میں شکایت نہ کروں,
ورنہ تم سے تو وہ شکوۓ ہیں میرے یار کہ بس
.