یہ وصال ہے کہ فراق ہے، دلِ مبتلا کو پتا رہے
جو یہ پھول ہے تو کھلا رہے، جو یہ زخم ہے تو ہرا رہے

تیرے انتظار کے سلسلے ہیں میانِ دستک و دَر کہیں
یہی آس ہے تو بندھی رہے، یہ چراغ ہے تو جلا رہے

... یونہی بھولے بھٹکے جو آ گئے ہیں اِدھر تو اتنی ہوا نہ دے
کہ غبارِ کوئے ملامتاں، کوئی واقعہ تو چھپا رہے

کسی چشمِ وعدہ کی لہر ہے بڑا دل گرفتہ یہ شہر ہے
سو ہوائے محرمِ دوستاں تیرے سلسلوں کا پتا رہے

یہ سرائے صبح کے ساتھ ہی مجھے چھوڑنی ہے غزالِ شب
تیری چشمِ رمز و کنایہ میں، کوئی خواب ہے تو سجا رہے