رائگانی میں ہم نہیں روئے
کھینچا تانی میں ہم نہیں روئے

جس کہانی میں ہم کو مرنا تھا
اُس کہانی میں ہم نہیں روئے

... بات کرتے ہی آ گئے آنسو
بے زبانی میں ہم نہیں روئے

آ کے ساحل پہ آنکھ بھر آئی
گہرے پانی میں ہم نہیں روئے

اک تیقن نے اشک بار کیا
بد گمانی میں ہم نہیں روئے

اپنے ہنسنے پہ آبدیدہ ہُوئے
نوحہ خوانی میں ہم نہیں روئے

اتنا روئے تھے اپنے بچپن میں
پھر جوانی میں ہم نہیں روئے

رُکتے رُکتے رُکے رہے دل میں
بس روانی میں ہم نہیں روئے

آخری حد پہ ضبط ٹوٹ گیا
بے کرانی میں ہم نہیں روئے

اے خدا ! ہم کو دائمی کر دے
دارِ فانی میں ہم نہیں روئے

( نصیر احمد ناصر )