ایک آدمی جو بُتوں کا پُجاری تھا وہ ایک جگہ بیٹھ کر یا صنم یا صنم کی تسبیح پڑھ رہا تھا وہ یا صنم کہتے کہتے رات کو تھک گیا تو اسے اونگھ آنے لگی جب اونگھ آئی تو اس کی زبان سے یا صنم کی بجائے یا صمد کا لفظ نکل گیا جیسے ہی اس کی زبان سے یہ لفظ نکلا تو اللہ رب العزت نے فورا فرمایا، لبّیک یا عَبدی میرے بندے میں حاضر ہوں مانگ کیا مانگتا ہے !!! فرشتے حیران ہو کر پوچھنے لگے اے اللہ یہ بُتوں کا پجاری ہے اور ساری رات بت کے نام کی تسبیح کرتا رہا ہے اب نیند کے غلبہ کی وجہ سے آپ کا نام نکل ...گیا ہے اور آپ نے فورا متوجہ ہو کر فرمایا اے میرے بندے تو کیا چاہتا ہے، اس میں کیا راز ہے؟؟ اللہ تعالی نے فرمایا میرے فرشتوں وہ ساری رات بتوں کو پکارتا رہا اور بُت نے کوئی جواب نہ دیا جب اس کی زبان سے میرا نام نکلا اگر میں بھی جواب نہ دیتا تو مجھ میں اور بت میں کیا فرق رہ جاتا؟؟

جو پروردگار اتنا مہربان ہو کہ بندے کی زبان سے نیند کی حالت میں بھی اگر نام نکل آئے تو پروردگار اس کو بھی قبول فرما لیتے ہیں تو ہم ہوش وحواس میں دعائیں مانگیں گے تو پرورد گار ہماری دعاؤں کو کیوں نہ قبول فرمائیں گے ۔ دعا ہے کہ پرورد گار عالم ہمیں اپنی سچی محبت عطا فرما دے اور موت کے وقت ہمارے پاس ایمان کی نعمت سلامت رہے iور قیامت کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جھنڈے کے سائے تلے حاضر ہو جائیں.. آمین