دنیا جن خدائی فوج داروں کو طالبان کے نام سے جانتی ہے، پچھلے دس سال میں وہ اتنے بے گناہوں کو قتل کر چکے ہیں کہ اب اُن کا شمار بھی آسان نہیں ہے۔ اُن کا اصرار ہے کہ یہ سب وہ خدا کے لیے اور خدا کے احکام کی پیروی میں کر رہے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی پر بزدلانہ حملے کے بعد بھی اُنھوں نے اپنا یہی موقف ایک مرتبہ پھر بیان کیا ہے۔ اِس کے لیے وہ قرآن و حدیث کے حوالے دیتے اور زمانۂ رسالت کے بعض واقعات کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ چونکہ بالعموم دین اور دینی علوم سے واقف نہیں ہیں، اِس لیے اندیشہ ہے کہ اِس طرح کی چیزوں سے متاثر ہوں گے۔ یہ چند حقائق اِسی کے پیش نظر ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔

۱۔ اِس میں شبہ نہیں کہ جہاد اسلام کا حکم ہے۔ قرآن اپنے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ اُن کے پاس طاقت ہو تو وہ ظلم و عدوان کے خلاف جنگ کریں۔ قرآن میں اِس کی ہدایت اصلاً فتنہ کے استیصال کے لیے کی گئی ہے۔ اِس کے معنی کسی شخص کو ظلم و جبر کے ساتھ اُس کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کے ہیں۔ یہی چیز ہے جسے انگریزی زبان میں ’persecution‘کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہ حکم اُن کی انفرادی حیثیت میں نہیں، بلکہ بحیثیت جماعت دیا گیا ہے۔ اِس کی جو آیتیں قرآن میں آئی ہیں، وہ اپنی انفرادی حیثیت میں اُن کے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا اِس معاملے میں کسی اقدام کا حق بھی اُن کے نظم اجتماعی کو حاصل ہے۔ اُن کے اندر کا کوئی فرد یا گروہ ہرگز یہ حق نہیں رکھتا کہ اُن کی طرف سے اِس طرح کے کسی اقدام کا فیصلہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا حکمران اُن کی سپر ہے، جنگ اُسی کے پیچھے رہ کر کی جاتی ہے*۔ طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اس قاعدے کی پابندی ہے یا اِس کی صریح خلاف ورزی، اِس کا فیصلہ ہر شخص بادنیٰ تامل کر سکتا ہے۔


 


۲۔ اسلام جس جہاد کا حکم دیتا ہے، وہ خدا کی راہ میں جنگ ہے، اِس لیے اخلاقی حدود سے بے پروا ہو کر نہیں کیا جا سکتا۔ اخلاقیات ہر حال میں اور ہر چیز پر مقدم ہیں اور جنگ و جدال کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے اُن سے انحراف کی اجازت کسی شخص کو نہیں دی۔ چنانچہ یہ بالکل قطعی ہے کہ جہاد صرف مقاتلین(combatants)سے کیا جاتا ہے۔ اسلام کا قانون یہی ہے کہ اگر کوئی شخص زبان سے حملہ کرے گا تو اُس کا جواب زبان سے دیا جائے گا، لڑنے والوں کی مالی مدد کرے گا تو اُس کو مدد سے روکا جائے گا، لیکن جب تک وہ ہتھیار اٹھا کر لڑنے کے لیے نہیں نکلتا، اُس کی جان نہیں لی جا سکتی۔ یہاں تک کہ عین میدان جنگ میں بھی وہ اگر ہتھیار پھینک دے تو اُسے قیدی بنایا جائے گا، اُس کے بعد اُسے قتل نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں جہاد کا حکم جس آیت میں دیا گیا ہے، اُس کے الفاظ ہی یہ ہیں کہ ’’اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑیں اور اِس میں کوئی زیادتی نہ کرو، اِس لیے کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا**۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے دوران میں عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔***اِس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اگر جنگ کرنے والوں کے ساتھ نکلے بھی ہوں تو بالعموم مقاتل نہیں ہوتے، زیادہ سے زیادہ لڑنے والوں کا حوصلہ بڑھا سکتے اور زبان سے اُنھیں لڑنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

یہ خدا کی شریعت ہے، مگر طالبان کیا کر رہے ہیں؟ مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور ڈاکٹر محمد فاروق خان جیسے اہل علم کبھی طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے نہیں نکلے۔ ملالہ یوسف زئی ایک معصوم بچی ہے۔ اُس نے بھی کبھی اُن پر بندوق نہیں اٹھائی۔ اِس کے باوجود اُ ن کا اصرار ہے کہ یہ سب واجب القتل تھے۔ کیا محض اِس لیے کہ اُن سے اختلاف کی جسارت کر رہے تھے؟ اِس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کی عمل داری کسی جگہ قائم ہو تو وہ مجرموں کو سزا دے سکتے ہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ اِس میں عورت اور مرد کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ قرآن بالکل صریح ہے کہ عورت چوری کرے یا مرد، دونوں سزا پائیں گے اور دونوں کی سزا ایک ہی ہے۔ یہی بات زانی اور زانیہ کے بارے میں فرمائی ہے۔ لیکن جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے، وہ طالبان کی عمل داری میں کب تھے اور اسلامی شریعت میں جن جرائم کی سزا قتل مقرر کی گئی ہے، اُنھوں نے اُن میں سے کس جرم کا ارتکاب کیا تھا؟ قرآن پوری صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ موت کی سزا قتل اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں بھی نہیں دی جا سکتی۔ اُن میں سے کون ہے جس نے کسی کو قتل کیا تھا یا کسی کی جان، مال یا آبرو کے درپے ہو کر دنیا میں فساد برپا کرنے کے لیے نکلا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ طالبان خود اِن جرائم کے مرتکب ہیں اور اپنے اعترافات کی گواہی شب و روز خود اپنے محضر پر ثبت کر رہے ہیں۔

۳۔ شرک، کفر اور ارتداد یقیناًسنگین جرائم ہیں، لیکن اِن کی سزا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو نہیں دے سکتا۔ یہ خدا کا حق ہے۔ قیامت میں بھی اِن کی سزا وہی دے گا اور دنیا میں بھی، اگر کبھی چاہے تو وہی دیتا ہے۔ قیامت کا معاملہ اِس وقت موضوع بحث نہیں ہے۔ دنیا میں اِس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم میں اپنی دینونت کے ظہور کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو اُس کی طرف اپنا رسول بھیجتے ہیں۔ یہ رسول اُس قوم پر اتمام حجت کرتا ہے، یہاں تک کہ کسی کے پاس خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ اِس کے بعد خدا کا فیصلہ صادر ہوتا ہے اور جو لوگ اِس طرح اتمام حجت کے بعد بھی کفر و شرک پر اصرار کریں، اُنھیں اِسی دنیا میں سزا دی جاتی ہے۔ یہ ایک سنت الٰہی ہے جسے قرآن نے اِس طرح بیان فرمایا ہے کہ ’’ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب کسی قوم کے پاس اُس کا رسول آجاتا ہے تو اُس کا فیصلہ پورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا*۔‘‘
یہ سزا بالعموم اُسی طریقے سے دی جاتی ہے ، جس طریقے سے قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح، قوم لوط، قوم شعیب اور بعض دوسری قوموں کو دی گئی۔ لیکن رسول کے ساتھی معتدبہ تعداد میں ہوں اور اپنی قوم سے ہجرت کے بعد اُنھیں کسی جگہ اقتدار بھی حاصل ہو جائے تو پھر یہ سزا رسول اور اُس کے ساتھیوں کی تلواروں سے دی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہی دوسری صورت پیدا ہوئی۔ چنانچہ آپ کے منکرین میں سے پہلے معاندین مارے گئے۔ اِس کے بعد عام منکرین کے قتل عام کا حکم دیا گیا۔ اُن کے لیے اِس سزا کا اعلان ۹؍ ہجری میں حج اکبر کے دن ہوا۔ اِس کا حکم قرآن مجید کی سورۂ توبہ میں اِس طرح آیا ہے کہ ’’جب (حج اکبر کے بعد) حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے)اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو**۔‘‘

یہ خدا کا عذاب تھا جو مشرکین عرب پر نازل کیا گیا۔اِس طرح کا عذاب جب نازل کیا جاتا ہے تو اُس میں عورتوں اور بچوں کے لیے بھی کوئی استثنا نہیں ہوتااور وہ بھی اُسی طرح ہلاک کر دیے جاتے ہیں، جس طرح نوح اور ہود اور صالح اور لوط اور شعیب علیہم السلام کی قوموں پر یہ عذاب آیا تو ہلاک کر دیے گئے۔ چنانچہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ اِس کے لیے جب سرایا بھیجے گئے اور لوگوں نے پوچھا کہ وہاں تو مشرکین کی عورتیں اور بچے بھی ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اُنھی میں سے ہیں*۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں آپ نے حکم دیا تھا کہ اگر اِس وقت ایمان لے آئیں اور بعد میں کبھی مرتد ہو کر دوبارہ کفر اختیار کر لیں تو اِسی سزا کے مستحق ہوں گے اور اِن کی گردن ماردی جائے گی۔**

اتمام حجت کے باوجود اِن لوگوں کی سزا میں ۹؍ ہجری تک یہ تاخیر اِس لیے کی گئی کہ معاند نہیں تھے، لہٰذا توقع تھی کہ شاید توبہ اور اصلاح کی توفیق پائیں اور سزا سے بچ جائیں۔ اِس کے برخلاف جو لوگ انکار کے ساتھ دشمنی اور معاندت پر اتر آئے تھے، اُنھیں یہ مہلت نہیں دی گئی۔ وہ جب ممکن ہوا، قتل کر دیے گئے۔ ابورافع، کعب بن اشرف، عبداللہ بن خطل، اُس کی لونڈیاں اور بدر و احد کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث اور ابوعزہ وغیرہ، سب اِسی لیے قتل کیے گئے۔ بعض منکرین کا خون بھی اِسی بنا پر رایگاں قرار دیا گیا ۔
یہ خدا کا فیصلہ تھا جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد لازماً نافذ ہو جاتا ہے۔ قرآن نے اِسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’’خدا کی اِس سنت میں تم کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے۔***‘‘اِس کی نوعیت بالکل وہی ہے جو اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی اور واقعۂ خضر میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ اِس کا ہم انسانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم جس طرح کسی غریب کی مدد کے لیے اُس کی اجازت کے بغیر اُس کی کشتی میں شگاف نہیں ڈال سکتے، کسی کے بچے کو نافرمان دیکھ کراُسے قتل نہیں کر سکتے، اپنے کسی خواب کی بنیاد پر ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے بیٹے کے گلے پر چھری نہیں رکھ سکتے، اُسی طرح یہ کام بھی نہیں کر سکتے، الاّ یہ کہ وحی آئے اور خدا براہ راست اِس کا حکم دے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اِس کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔
اپنے اقدامات کے جواز میں طالبان جو کچھ پیش کر رہے ہیں، وہ اِسی طرح کے واقعات ہیں۔ یہ خدائی معاملات کو اپنے لیے عام کر لینے کی جسارت ہے۔ خدا کی زمین پر اِس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا۔ ہر بندۂ مومن کو اِس سے خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔