نکتہ سنجی نہیں آواز کی لے دیکھتے ہیں
شاعری آ کے کہاں پھنس گئی قوّالوں میں

اپنے ہونے پہ ندامت کا وہ احساس رہا
کٹ گئی عمر جلوسوں میں کچھ ہڑتالوں میں