فاصلے ہی فاصلے ہيں ، منزلوں کا نشان نہيں ملتا
برسوں بيت گئے تجھے پانے کا سامان نہيں ملتا
وہ معصوم خوآہيشيں ريزہ ريزہ کہاں کھوہ گئيں
تجھ سے آباد ميرے خوآبوں کا جہان نہيں ملتا
جن کے پاؤں ميں الٹے بخت کا چکر ہو...
انہيں عمر بھر کوئی ٹھکانہ کوئی سائبان نہيں ملتا
اس شہر ميں کب تک خلوص کو ليئے پھرو گے
دشت ميں ايسے خزانوں کا نگہبان نہيں ملتا
تبسم صديوں جيسے سفر کے بعد مجھے پتہ چلا
ميری زمين سے تيری محبت کا آسمان نہيں ملتا..
Name:  1511057_661024923995431_3242119818485265886_n.jpg
Views: 1288
Size:  25.6 KB............