حضرت حسین کا منصوبہ کیا تھا؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر کوفہ کی طرف جا رہے تھے تو آپ کا پلان کیا تھا؟ بالفرض اگر اہل کوفہ آپ کے ساتھ عہد شکنی نہ کرتے تو کیا واقعات پیش آتے؟ تاریخ کی کتب میں ہمیں آپ کے اپنے الفاظ میں آپ کے ارادے کی تفصیلات نہیں ملتی ہیں۔ یہ بعض تجزیہ نگاروں کی محض قیاس آرائی ہی ہے کہ آپ کوفہ کی حکومت سنبھال کر اہل شام کے ساتھ جنگ کرتے۔ طبری میں ہشام کلبی کی ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ جب حر بن یزید کی سرکردگی میں سرکاری فوج نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ جانے سے روکا تو آپ نے اس موقع پر آپ نے اہل کوفہ پر مشتمل اس سرکاری فوج سے ایک خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
قال هشام: حدثني لقيط، عن علي بن الطعان المحاربي: ۔۔ آپ نے حجاج بن مسروق جعفی کو حکم دیا کہ وہ اذان کہیں۔ انہوں نے اذان دی اور اقامت کی باری آئی تو آپ (حضرت حسین) تہبند، چادر اور جوتے پہنے نکلے۔ اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: "اے لوگو! میں اللہ عزوجل سے اور آپ سب لوگوں کے سامنے (اپنے آنے کا) سبب بیان کرتا ہوں۔ اس وقت تک میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آیا، جب تک آپ لوگوں کے خطوط اور آپ کے قاصد یہ پیغام لے کر میرے پاس نہیں آئے کہ آپ آئیے، ہمارا کوئی حکمران نہیں ہے، شاید آپ کے سبب اللہ تعالی ہم سب لوگوں کو ہدایت پر متفق فرما دے۔ اب اگر آپ اسی بات پر قائم ہیں تو میں آپ کے پاس آ چکا ہوں۔ اگر آپ لوگ مجھ سے ایسا معاہدہ کر لیں جس سے مجھے اطمینان ہو جائے تو میں آپ کے شہر جانے کو تیار ہوں۔ اگر آپ لوگ ایسا نہیں کرتے اور میرا آنا آپ کو ناگوار گزرا ہے تو جہاں سے میں آیا ہوں، وہیں واپس چلا جاتا ہوں۔ " یہ سن کر سب خاموش رہے۔ آپ نے موذن سے کہا: "اقامت کہیے۔" انہوں نے اقامت کہی تو حسین نے حر سے پوچھا: "آپ لوگ کیا الگ نماز پڑھیں گے؟" انہوں نے کہا: "جی نہیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔" آپ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمہ میں چلے گئے۔ ۔۔۔
(پھر عصر کے بعد آپ نے ایک خطبہ دیا۔) حر نے آپ سے کہا: "واللہ! مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ کیسے خطوط تھے، جن کا آپ ذکر فرما رہے تھے۔" یہ سن کر آپ نے عقبہ بن سمعان سے کہا: "وہ دونوں تھیلے جن میں لوگوں کے خطوط ہیں، لے آئیے۔" عقبہ دونوں تھیلے لائے جن میں خطوط بھرے ہوئے تھے۔ آپ نے سب کے سامنے لا کر ان خطوط کو بکھیر دیا۔
( ایضاً ۔ 4/1-191)
اس روایت کے الفاظ " آپ آئے ، ہمارا کوئی حکمران نہںں ہے" سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا سفر اسی وجہ سے اختیار کیا کہ وہاں انارکی (عدم حکومت) کی سی کیفیت تھی۔ آپ اس انارکی کو ختم کرنے کے لیے کوفہ تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے ہی میں جب آپ پر یہ واضح ہو گیا کہ انارکی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے اور وہاں حکومت قائم ہو گئی ہے تو پھر آپ نے اپنی رائے تبدیل کر لی اور واپسی کا عزم کیا۔
ہماری رائے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ہستی سے یہ بات بہت بعید از قیاس ہے کہ آپ محض اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں میں خانہ جنگی برپا کرتے۔ باغی تحریکوں نے اپنے قتل و غارت کو جسٹی فائی کرنے کے لیے یہ خیال آپ کی جانب منسوب کیا ہے۔ یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں شدید بدگمانی ہے کہ آپ کے بارے میں ایسا خیال کیا جائے کہ آپ اپنے اقتدار کے لیے مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے تھے۔ آپ کے بارے میں ہم حسن ظن رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا مقصد ایک پریشر گروپ بنا کر حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ اصلاح طلب امور کی اصلاح ہو سکے۔
کیا حضرت حسین کی رائے تبدیل ہوئی؟
تاریخی روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے اہل کوفہ کی اصل صورتحال آئی تو ان کی رائے تبدیل ہو گئی۔ یہ بات درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔ طبری میں ابو مخنف ہی کی روایت میں بنو اسد کے دو افراد کا بیان اس طرح نقل ہوا ہے:
قال أبو مخنف: وأما ما حدثنا به المجالد بن سعيد والصقعب بن زهير الأزدي وغيرهما من المحدثين، فهو ما عليه جماعة المحدثين، قالوا: حضرت حسین نے فرمایا: تین باتوں میں سے ایک بات میرے لیے اختیار کر لیجیے: جہاں سے میں آیا ہوں، وہیں چلا جاؤں۔ یا یہ کہ میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں اور وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ کر نا چاہے، کر لے یا پھر یہ کیجیے کہ مملکت اسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد پر مجھے جانے دیجیے۔ میں ان لوگوں جیسا ایک شخص بن کر رہوں گا اور میرا نفع و نقصان ان کے نفع و نقصان کے تابع ہو گا۔
( ایضاً ۔ 4/1-200)
بعینہ یہی بات اوپر عمار الدہنی کی روایت میں گزر چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کس درجے میں امن پسند تھے اور آپ کسی صورت میں خونریزی نہ چاہتے تھے۔ سر داد نہ داد دست در دست یزید قسم کی باتیں محض باغی تحریکوں کے لٹریچر سے متاثر ہو کر کہی گئی ہیں۔ ان باغی تحریکوں نے اپنی تقویت کے لیے حضرت حسین کی شخصیت کو ایک کٹر اور بے لچک (Adamant) شخص کے طور پر پیش کیا ہے ورنہ آپ حالات کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ جب آپ کو مسلم بن عقیل کی خبر ملی تو آپ نے تمام لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ ان سے الگ ہو کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔طبری میں ہشام کلبی کی یہ روایت بیان ہوئی ہے:
قال هشام: حدثنا أبو بكر بن عياش عمن أخبره: (حضرت حسین نے فرمایا ایک بہت ہی سخت واقعہ کی خبر مجھے پہنچی ہے۔ مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن بقطر قتل کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے شیعوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ آپ لوگوں میں سے جو کوئی جانا چاہے، چلا جائے۔ میں نے اپنی ذمہ داری آپ سے ختم کر دی ہے۔ " یہ سنتے ہی وہ سب لوگ چلے گئے ۔ کوئی دائیں طرف چلا گیا اور کوئی بائیں جانب۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو لوگ مدینہ سے آپ کے ساتھ چلے تھے، وہی باقی رہ گئے۔
( ایضاً ۔ 4/1-18
عمار الدھنی اور ابو مخنف کی روایات میں موجود ہے کہ آپ نے سرکاری افواج کے سامنے تین آپشنز پیش کی تھیں: (1) یا تو مجھے چھوڑ دیےلد کہ مںو جہاں سے آیا ہوں، وہں چلا جاؤں۔ (2) یا مجھے یزید کے پاس جانے دیےعب۔ (3) یا کسی سرحد کی طرف چلا جانے دیےلد۔ ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی ارادہ بغاوت یا جنگ کا نہ تھا۔
سانحہ کربلا کے ذمہ دار کون لوگ تھے؟
عمار الدہنی کی اوپر بیان کردہ روایت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے عمر بن سعد کے ساتھ مذاکرات جاری تھے اور آپ یزید کے پاس جانے کے لیے تیار بھی ہو گئے تھے کہ بیچ میں لڑائی چھڑ گئی۔ یہ لڑائی کیسے چھڑی اور اس کا سبب کیا بنا، اس معاملے میں یہ روایت خاموش ہے۔ البتہ اس روایت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعض الفاظ ایسے بیان ہوئے ہیں جن سے کچھ اشارہ ملتا ہے کہ اس جنگ کے چھڑنے کے ذمہ دار کون لوگ تھے۔ دوران جنگ آپ نے اللہ تعالی سے فریاد کی: "اے اللہ! ہمارا اور ان لوگوں کا تو انصاف فرما۔ انہوں نے ہمںد اس لے بلایا کہ ہماری مدد کریں گے اور اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہں ۔"
یہ ایسے الفاظ ہیں جن کے مصداق نہ تو عمر بن سعد ہو سکتے ہیں اور نہ ابن زیاد اور اس کے ساتھی کیونکہ ان لوگوں نے تو آپ کو کوئی خط نہ لکھا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری فوج میں وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر کوفہ بلایا تھا۔ اب انہی لوگوں نے آپ پر حملہ کر کے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنا شروع کر دیا تھا۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کےبراہ راست قاتلوں میں جن لوگوں کے نا م آئے ہیں، ان کے بیک گراؤنڈ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ باغی تحریک ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابو مخنف نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے براہ راست قاتلوں میں عبد الرحمن جعفی، قثم بن عمرو بن یزید الجعفی، صالح بن وہب الیزنی، سنان بن انس نخعی، خولی بن یزید الاصبحی اور ان کے لیڈر شمر بن ذی الجوشن کے نام لکھے ہیں۔ دیگر ذرائع سے ہمیں معلوم نہیں کہ یہی لوگ آپ کے قاتل تھے یا نہیں۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ شمر ، جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا اور خود ابو مخنف کی روایت کے مطابق یہ جنگ صفین میں زخمی ہوا تھا۔( ایضاً ۔ 3/2-221)۔ سنان بن انس قبیلہ نخع سے تعلق رکھتا تھا اور مالک الاشتر نخعی کا رشتے دار تھا۔ تاہم پھر بھی ہمیں متعین طور پر کسی شخص کا نام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان روایتوں کے سوا ہمارے پاس کوئی اور ثبوت نہیں ہے اور روایات قابل اعتماد نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باغی تحریک ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں پر حملہ کیوں کیا۔ اگر یہ لوگ باغی تحریک سے تعلق رکھتے تھے تو انہیں اس کا فائدہ کیا ہوا؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں ان کا پول نہ کھل جائے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط حضرت حسین رضی اللہ عنہ اگر دکھا دیتے تو پھر حکومت کی جانب سے بھی انہیں غداری کی سزا ملتی۔ سانحہ کے بعد ان خطوط کا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے جن کی دو بوریاں بھر کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ ساتھ لائے تھے۔ عین ممکن ہے کہ دوران جنگ ہی ان خطوط کو تلف کر دیا گیا ہو تاکہ ثبوت کو مٹا دیا جائے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ باغی تحریک کو ایک تازہ ترین "ہائی پروفائل شہید" کی تلاش تھی، جس کے نام پر اپنی تحریک کے لوگوں کو مشتعل کیا جا سکے۔ عین ممکن ہے کہ بعض باغیوں کے ذہن میں یہ محرک رہا ہو کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی صورت میں انہیں ایسا شہید مل سکتا ہے۔ لاشوں کی سیاست ہمارے دور ہی کا خاصہ نہیں ہے بلکہ ہر دور میں باغی تحریکیں ایسا کرتی رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک ممکنہ تھیوری ہے۔ حقیقت کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے اور وہی روز قیامت اسے واضح فرمائے گا۔ روایات کی بنیاد پر متعین طور پر کوئی بات کہنا مشکل ہے۔