وہ بھی رہا بیگانہ، ہم نے بھی نہ پہچانا
ہاں، اے دلِ دیوانہ، اپنا ہو تو ایسا ہو
ہم نے یہی مانگا تھا، اس نے یہی بخشا ہے
بندہ ہو تو ایسا ہو، داتا ہو تو ایسا ہو
اس دور میں کیا کیا ہے، رسوائی بھی لذّت بھی...

کانٹا ہو تو ایسا ہو، چُبھتا ہو تو ایسا ہو
ہم سے نہیں رشتہ بھی، ہم سے نہیں ملتا بھی،
ہے پاس وہ بیٹھا بھی۔۔۔۔۔۔۔ دھوکہ ہو تو ایسا ہو۔۔۔۔!
اے قیس جنوں پیشہ، انشاء کو کبھی دیکھا
وحشی ہو تو ایسا ہو، رسوا ہو تو ایسا ہو
انشاء