اسیرِ وسوسہ کیوں ہو
وطن کے روز و شب سے

کس لیے بیزار ہوا تنے
تمھاری آنکھ میں کیوں
بے یقینی رقص کرتی ہے
رگوں میں آخرش
کیوں خوف کا عالم ہے اس درجہ
ابھی تو اپنی مٹی میں
نمو کا وصف زندہ ہے ابھی دریا میں پانی ہے
ابھی جھیلیں نہیں سوکھیں
ابھی جنگل نہیں اُجڑے
فضاؤں میں ابھی تک
بادلوں کا آنا جانا ہے
ہواؤں میں نمی کا سلسلہ
قائم و دائم ہے
ابھی تک فصلِ گُل کا
دامنِ شاداب باقی ہے
ابھی تک قطرۂ شبنم کی
آب و تاب باقی ہے
نظر کے سامنے فصلیں ابھی تک لہلہاتی ہیں
ہمارے نام کے دانے
اُگا کرتے ہیں کھیتوں میں
ہماری سر زمیں کی
پھول سے نسبت ابھی تک ہے
ابھی تک تتلیاں پرواز کرتی ہیں گلستاں میں
ابھی تک جگنوؤں کی روشنی
دل کو لبھاتی ہے
زمین پہ چاندنی کے رقص کا جادو
ابھی تک ہے
حرارت زندگی برف نے اب تک نہیں چھینی
سلگتے مہر نے
برسات کا موسم نہیں چھینا
ابھی صحراؤں کے عفریت سے
محفوظ ہیں دریا
ابھی نخلِ تمنّا کی
ہری شاخیں سلامت ہیں
ابھی قدموں کے نیچے
ماں صفت
مٹی کی حدّت ہے
مرے بھائی
تم اس سچائی سے آگاہ تو ہو گے
پرندے ایسے موسم میں
کبھی ہجرت نہیں کرتے