ہوائے شہر یہاں کس طرح چلی بابا
کہ گانو جلنے لگا ہے گلی گلی بابا!
درخت کیوں ہیں سراسیمگی کے عالم میں
مچی ہے کیسی پرندوں میں کھلبلی بابا
نہ جانے کیسا بچھا یا تھا جال چوروں نے
کہ آج پھنس گیا سِم سِم میں خود علی بابا
یہ رات یوں بھی ہمیں جاگ کر گزارنی ہے
کہانی کوئی سناؤ بری بھلی بابا
یہاں تو سر ہی نہیں سارا شہر زد میں ہے
ہے کیسی فرقہ پرستی کی اوکھلی بابا
حنائی روح چتاؤں کے پاس گھومتی ہے
یہ کس کا جسم جلا آج صندلی بابا