کس موڑ پر ملے ہو ؟

وہ خواب کا زمانہ
وہ رُوپ کا خزانہ
سب کچھ لُٹا چکے ہم
یہ جسم و جاں جاناں
کس موڑ پر ملے ہو ؟


 


کیا نام ہے تمہارا
کس نام سے پُکاروں
کس طرح تجھ کو جیتوں
کس طرح تجھ کو ہاروں
کس موڑ پر ملے ہو ؟

دروازہ کیسے کھولوں
دستک نہ دو خدارا
یہ قفلِ قیدِ ہستی
قسمت پر کس کو یارا
کس موڑ پر ملے ہو ؟

اب دل کی وادیوں کے
جُگنو بھی سو چکے ہیں
خوابوں کے سب جزیرے
ویران ہو چکے ہیں
کس موڑ پر ملے ہو ؟

مڑ کر بھی آنا چاہوں
مڑ کر بھی آ نہ پا ؤں
دامن بچانا چاہوں
دامن چُھڑا نہ پاؤں
کس موڑ پر ملے ہو ؟

__________________