مبتلا ہے عذاب میں تتلی!
تھی بہاراں کے خواب میں تتلی

دل کوئی فرطِ غم سے ٹوٹ گیا
مر گئی اک کتاب میں تتلی


 


آخر اک روز اپنی جان سے گئی
آئینے کے سراب میں تتلی

رات کو اک عجب منظر تھا!
ہالہ ماہتاب میں تتلی

دیکھئے آج کس سے ملنا ہو
میں نے دیکھی ہے خواب میں تتلی

آہ، پیوستِ نوکِ خار ہوئی
اپنے عہد شباب میں تتلی

زخم میرے بدن پر ایسے سجے
جیسے شاخِ گلاب میں تتلی

جانے رہتی ہے کس کے غم میں نسیم
ہر گھڑی اضطراب میں تتلی