عشرتِ جاں میں مست تھے
کھوئے ہوئے تھے سارے لوگ
کیسی عجیب نیند تھی
سوئے ہوئے تھے سارے لوگ

کس کو خبر تھی، حشر کی
کیسی گھڑی ہے ہر طرف
جاگ کے دیکھتے ہیں کیا
آگ لگی ہے ہر طرف

ساری زمیں جلی ہوئی
سارا جہاں جلا ہوا
اُس کی گلی میں خوں ہی خوں
اِس کا مکاں جلا ہوا
سب کا یقیں لہو لہو
سب کا گماں جلا ہوا
محفل ِ دل لٹی ہوئی
قریہء جاں جلا ہوا
سود و زیاں کے عہد میں
سود و زیاں جلا ہوا

ایسا وہ حشر تھا بپا
ہوش سبھی کے کھو گئے
باغ تمام جل گئے
شہر تباہ ہو گئے
راکھ کے ڈھیر پر جنہیں
رونا تھا، وہ بھی رو گئے

ایسی عجیب نیند تھی
لوگ دوبارہ سو گئے