دو راستے


 



یہ جہاں اک رہگذر ہے زندگی ہے اِک سفر
حضرتِ انساں ہے رہرو عقل و دل ہیں راہبر

سامنے ہوتے ہیں ہر انسان کے دو راستے
مختلف سمتوں کو جاتے ہیں سدا جو راستے

نام پہلے راستے کا ہے صراطِ مستقیم
گامزن ہوتے ہیں جس پر صاحبِ عقلِ سلیم

عدل و انصاف و اخوت عام ہے اس دین میں
ہے مقرر جرم کی تعزیر اِس آئین میں

زندگی کے ایک اک شعبے کا ہے اس میں اصول
اس کا رہرو ہی سدا کرتا ہے عظمت کا حصول

مفلسوں کو اس میں حاصل ہے فلاح و اِرتقا
اس میں ایثار و محبت کی نہیں کچھ انتہا

اس میں شامل ہیں مساوات و مروت کے دروس
ہر طرح سے دلنشیں ہے زندگانی کی عروس

اَمر بالمعروف بھی ہے نہی عن المنکر بھی ہے
اس کے سالک میں جہاد و جنگ کا جوہر بھی ہے

اس طریقِ پُر سکوں میں رحمتِ رب عام ہے
نام اس راہِ فلاح الناس کا اسلام ہے

دوسرا ہے راستہ گمراہی و عدوان کا
اس میں ہو جاتا ہے سرکش ذہن ہر انسان کا
منحنی یہ راستہ ہے پُر خطر پُر خار ہے
جس میں تاریکی ہی تاریکی ہے یہ وہ غار ہے

عام ہے بے مہری و تخریب و عیاری یہاں
گھات میں ہے رہزنی و مکر و بدکاری یہاں

جبر و استبداد و استحصال اس میں عام ہے
حق پرست و عادل و منصف یہاں ناکام ہے

اس کے رہرو ہیں دغا باز و ذلیل و بد دماغ
لوٹتے ہیں خوب لوگوں کو دکھا کر سبز باغ

چوستے ہیں خوب خوش ہو کر غریبوں کا لہو
ان کے خونیں رنگ کو کرتے ہیں پھر زیبِ گلو

راستے واضح ہیں جو چاہو کرو تم اختیار
باعثِ عزت ہے پہلا ، دوسرا ذلت شعار