Name:  Thumbnail_image1014 Feb. 15 07.28.jpg
Views: 808
Size:  47.3 KB


 


آج سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے خود اعتراف کرلیا کہ سندھ کے ۴۹ ہزار سکولوں میں سے صرف ۱ ہزار سکول ہی فنکشنل ہے اور یہ صرف سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صرف ا ہزار فنکشنل ہیں جب کے حقیقی صورتحال اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کراچی جو صوبے کا دار الخلافہ ہے اور ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اس شہر کے ایک پوش علاقے کورنگی ٹائون میں ایک پرائمری اسکول ہے جو برائے نام ہے اور اسے صرف انتخابات کے دن ہی قابل استعمال لایا جاتا ہے جو ایک گھوسٹ اسکول کا منظر پیش کرتا ہے اگر اس کا یہ حال ہوگا تو پھر صوبے کے پسماندہ اضلاع تھرپارکر، گھوٹکی، دادو، بدین اور لاڑکانہ کے سرکاری اسکولوں کا حشر ہوگا جبکہ کراچی کا ثانوی تعلیمی بورڈ نقل کی روک تھام کے حوالےسے اتنا کمزور اور بدنام زمانہ ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں میں جو طلبہ میٹرک کے امتحانات میں فیل ہوجاتے ہیں وہ امتحانات میں کامیاب ہونے کے کراچی بورڈ سے امتحانات دینے آجاتے ہیں اور وہ لوگ کامیاب ہوبھی جاتے ہیں کیونکہ انہیں نقل سے کوئی روکنے والا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہاں موجود امتحانی عملہ اتنا بدعنوان ہوتا ہے کہ ۵۰ اور ۱۰۰ روپے کی خاطر بچوں کا مستقبل دائو پر لگا دیتے ہیں اور حل شدہ پرچے دیکر انہیں نقل کرنے کی کھلی چھوٹ دے دیتے ہیں اور کہی تو نگران کمرہ مخصوص رقم لیکر اس بچے کا پرچہ خود ہی بیٹھ کر تحریر کرکے حل کردیتے ہیں تو ایسے نظام تعلیم سے ہم اس ملک کے مستقبل کو روشن کر سکتے ہیں ؟؟؟

نثار کھوڑو صاحب نے تو بہت ہی آسانی سے کہ دیا کہ سندھ کے ۴۹ ہزار میں سے ۴۸ ہزار اسکول غیر فعال ہیں مگر یہ نہیں بتایا کہ ان سب کا ذمے دار کون ہے کیونکہ پچھلے تریپن سالوں سے تو انہی کی جماعت سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے مگر انہوں نے تعلیم کے لئے کچھ نہ کیا۔

آج بلاول صاحب دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرنےکی بات کرتے مگر کبھی انہوں نے یہ سوچا ہے کہ انسان دہشت گرد کیوں بنتا ہے؟؟ کیونکہ جس قوم کو تعلیم سے دور رکھا جائے وہاں ظلم و نا انصافی اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اندرون سندھ کو ڈاکوئوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں تعلیم کا شدید فقدان پایا جاتا ہے اور اس کے ذمے دار سندھ کے حکمران ہیں۔

آج بلاول زرداری صاحب دہشت گردی کے خلاف جنگ سندھی صقافت کے ذریعے لڑ رہے ہیں مگر یہ دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں کیونکہ اس کے ذریعے وہ انتہا پسندی کو مزید ہوا دے رہےہیں اور بلاول صاحب واقعی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں سندھ میں تعلیمی انقلاب برپا کرنا ہوگا اور ناخواندگی کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں انتہا پسندی چوری ڈکھیتی اور ظلم وبربریت جیسی معاشرتی برائیوں سے محفوظ رہ سکے۔

تحریر : عائشہ آفریدی


Name:  si1IB-1S.jpeg
Views: 795
Size:  167.6 KB