beautiful poem by Jon Elia


Name:  1981.jpg
Views: 1061
Size:  20.4 KB






Note :- All Nidokidos friends are requested to like our facebook Page




اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں

ہم کہیں ـــــــــ ٹالنے سے ٹلتے ہیں



میں اُسی طرح تو بہلتا ہوں

اور سب جس طرح بہلتے ہیں



وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی

ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں



کیا تکلف کریں ــــــــــــــــــــ یہ کہنے میں

جو بھی خوش ہے، ہم اُس سے جلتے ہیں



ہے اُسے دور کا سفر در پیش


 


ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں



ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی

چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں



ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں



تم بنو رنگ ــــــــــ تم بنو خوشبو

ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں




شاعر: جون ایلیا