Name:  1779154_520864158027930_1719921884_n.jpg
Views: 99
Size:  39.5 KB




لانگ ڈیسٹنس کال


“ بہت برفاف موسم ھے
ہوائیں برف رُت کی شال اوڑھے
بند کمرے میں
پناہیں ڈھونڈتیں ھیں


یہ کمرہ
جس میں ہیٹر چل رہا ھے اور
بدن سارے کا سارا
برف کی سل بن گیا ھے
بدن کی حدتیں اب اک
غبار آلود خواہش کی طرح
گم ہو رھی ھیں*


مگر اس منجمد شب میں
جہاں پر ذھن سُن ھو
اور پوریں بےحس و حرکت


وہاں پر سانس لینے
اور لہو کو گرم رکھنے کی
یہی صورت نظر آئی
کہ تم سے فون پر بات کروں


باتوں ھی باتوں* میں*
تمہارے عارض و رخسار و لب
اور برف پگھلاتی ھوئی
آنکھوں*کو چھولوں
اور تمہیں* کہہ دوں
ذرا تم فون پر ھونٹوں* کو رکھ دو
میں* بھی رکھی ھوں*


تم اپنی گرم سانسوں سے
مری سانسوں* کو پگھلاؤ
تصور میں مجھے چھو لو
میرے دل میں اُتر آؤ


میں تنہائی کے جس موسم کی
یخ بستہ رتوں میں مبتلا ھوں
اس گھڑی ان کو
تمہارے عارض و رخسار کی
حدت ھی پگھلائے تو پگھلائے


وگرنہ پھر "خدا حافظ “


"نوشی گیلانی"