کیوں ابر سے جلتا ہے صحرا تو نہیں وہ
پیاسا بھی کبھی ہوگا دریا تو نہیں وہ

آواز بھی دینا کہ وہ شاید پلٹ آئے
محتاط بھی رہنا کہ شناسا تو نہیں وہ

ہر ایک سے شناسائی کا الزام بھی دینا
پھر سوچتے رہنا بھی کہ ایسا تو نہیں وہ

اترے ہیں انکی آنکھوں میں تو ابتک نہیں لوٹے
کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ گہرا تو نہیں وہ

کیا اس سے چھپاؤں کہ نہیں غیر بھی اتنا
کیا اس کو بتاؤں، میرا اپنا تو نہیں وہ


 


بھولے سے ہی دیکھے وہ کبھی راہ میں مجھکو
اور خود سے یہ کہ دے کہی عذرا تو نہیں وہ