زندگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی
بے دلی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

اُس کے چہرے کو جو دیکھا تو نظر جھک سی گئی
بندگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

کیا کلی سے کہا بھنورے نے، سمٹتی ہی گئی
بے خودی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی


 


اُس نے اِک بار کہا، جگنُو سی آنکھوں والی
روشنی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

کھول کر مُٹھی دکھائی مجھے اُس نے جس پل
آگہی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

چوم کر پھول کو جب شوخ صبا لہرائی
تازگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

جس قدر اُس کو زمانے نے مٹانا چاہا
عاشقی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

یاد خوشبو کی طرح رچ گئی سانسوں میں مرے
بے کلی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی

دل لگانے کا ہُنر کم ہوا رفتہ رفتہ
دل لگی اور بڑھی، اور بڑھی، اور بڑھی