کتنا عادی ہو گیا تھا وہ شخص تمہارا
تمہارے بغیر جئے گا کیسے؟ یہ سوچ کر مر گیا


تم مری زندگی میں لازمی ہو
جیسے پہلا سوال پرچے کا


 



اسی سے کھاتا ہوں فریب منزل کا
میں جس کے پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہوں