تیرا گر ناخن پا تیرا مائل دھو کے پی جاتا
تو اس کے ہاتھ پاؤں مل کے کامل دھو کے پی جاتا

نہ آتا ہاتھ خوں میرا اگر اس تشنہ خوں کے
تو اپنی تیغ پر خوں کو وہ قاتل دھو کے پی جاتا

اگلتا زہر پھر کیا کیا وہ تیرا نخت سودائی
اگر کوئی تیرے رخسار کا تل دھو کے پی جاتا


 


اگر ہوسکتا عالم میں حصول علم بے محنت
تو پھر ساری کتابیں ایک جاہل دھو کے پی جاتا

اٹھا سکتا جو مجنوں نقش پائے ناقہ لیلیٰ
تو جوں تعویذ ہول دل وہ بیدل دھو کے پی جاتا

حلاوت یاد کر کر تیری آب تیغ کی قاتل
بدن کے زخم اپنے آپ گھائل دھو کے پی جاتا

ظفر بے شغل ہی ہوجاتا سب کچھ منکشف اس پر
در فخر جہاں گر کوئی شاغل دھو کے پی جاتا

بہادر شاہ ظفر