یہ کمرے میں بیٹھے ہو کیوں تنہا

یہ آئینہ کیوں دیکھتے ہو غور سے

مجھے پتہ چلا ہے دوسروں سے

کہ بہت ہی خود پسند ہو تم

تم خود کو دیکھو اور مسکراؤ

کہ میں اتنا حسین کیوں ہوں

شہا بی رنگت جو ہے یہ میری

جھلکتا ہےر نگ ماں کی دعا کا

یہ میری آنکھیں ہیں جھیل جیسی

کہ جن سے ٹپکتی ہے ذ ہانت

یہ میرے بازو کہ جن پہ ہے بھر وسہ

جو آئیں مشکلیں تو جھیل جا ؤں

میں اپنا مستقبل خود بنا ؤں

مسا فتیں چا ہے کتنی ہوں لمبی

میں ساری منز لیں طے کروں گا

میرے دوست اب بس بھی کردو

یہ خود پسندی نظر اٹھا کے ادھر بھی دیکھو

ہیں لب چپ تمہارے مگر بولتی ہیں آنکھیں

کہ جس عکس کو آئینے میں

تلاش تم کررہے ہو نظر اٹھا کہ ادھر بھی دیکھو

میں عکس ہوں تمہارا یہ جان لو اگر تم

تو زندگی بدل ہی جاۓ یہ تصویر روح میں سما ہی جاۓ



شا عرہ رابعہ اقبال رابی