جب اس سے انگ لاگا ہے، تو مجھ کو رنگ لاگا ہے
وہ میرے سنگ جاگا ہے، جو خوشبودار می رقصم


 


نچاتا ہے مجھے تو پاؤں دونوں باندھ کر میرے
مثال ماہی بے آب، موجمدار می رقصم...

میری وحشت تو میرے پاؤں ٹکنے نہیں دیتی
سرخانہ، سرمحفل، سربازار می رقصم

کوئی روکے اگر، تو رقص کرنے سے نہیں رکنا
کوئی ٹوکے اگر، تو میں بصد اصرار می رقصم

کنارے پر سجا رکھی ہے اپنی جھونپڑی میں نے
جب آ جاتا ہے وہ، اس پار سے اس پار می رقصم

نچایا عشق میں بلھا کو جیسے تھیا تھیا کر
اس دھج سے بوقت جستجو یار می رقصم