غزل از میر تقی میر

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
دم کے جانے کا نہایت غم رہا

حسن تیرا تھا بہت عالم فریب
خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا

دل نہ پہنچا گوشہء داماں تلک
قطرہء خوں تھا مژہ پر جم رہا

سنتے ہیں لیلٰی کے خیمہ کو سیاہ
اس میں مجنوں کا ولے ماتم رہا

جامہء احرامِ زاہد پر نہ جا
تھا حرم میں لیک نا محرم رہا


 


زلفیں کھولے تو ٹک آیا نظر
عمر بھر یاں کام دل برہم رہا

اس کے لب سے تلخ ہم سُنتے رہے
اپنے حق میں آبِ حیواں سَم ریا

میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا

صبحِ پیری شام ہونے آئی میر
تو نہ جیتا یاں بہت دن کم رہا