یہ سنا تھا عشق کا آنسوؤں سے بہت قریب کا ربط ہے
تو یہ میرے عشق کو کیا ہوا، ابھی میری آنکھ تو نم نہیں

مجھے زہرِ عشق قبول ہے، جو مری وفا کا زیاں نہ ہو
مجھے اپنی عزت عزیز ہے، مری جان اتنی اہم نہیں


 


وہ خوشی بھی کوئی خوشی ہوئی، جو رہینِ دستِ سوال ہو
یہ تو زندگی کا مزاج ہے، مجھے غم کا کوئی بھی غم نہیں

یہ فقط غرور کی بات ہے کہ زباں سے اپنی نہ تم کہو
تمھیں ورنہ اس کی خلش تو ہے کہ تمھاری بزم میں ہم نہیں

جو سلوک از رہِ رسم ہو ، وہ تمام عمر بھی ہو تو کیا
جو خلوصِ قلب کے ساتھ ہو تو وہ اک نگاہ بھی کم نہیں

مِری آنکھ بجھ بھی گئی تو کیا، مری روشنی مرے ساتھ ہے
ابھی مرا چاند چُھپا نہیں ، مرے گھر میں شامِ الم نہیں


مری بات ہوتی ہے دوبدو میں خطاب کرتا ہوں روبرو
مِرے سامعین کی خیر ہومجھے احتیاجِ قلم نہیں