گلاب ھاتھ میں ھو ، آنکھ میں سِتارہ ھو
کوئی وجودِ محبّت کا استعارہ ھو


کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں، کہیں مِل لیں
یہ کب کہا تھا، کہ وہ خوش بدن ہمارا ھو


قصور ھو تو ہمارے حساب لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ھو، تمھارا ھو


یہ اِتنی رات گئے کون دستکیں دے گا !
کہیں ھوا کا ھی اُس نے نہ رُوپ دھارا ھو


اُفق تو کیا ھے، درِ کہکشاں بھی چھُو آئیں
مُسافروں کو اگر چاند کا اِشارہ ھو


میں اپنے حِصّے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ھو، جو مجھے اِس طرح کا پیارا ھو


اگر وجود میں آہنگ ھے، تو وصْل بھی ھو!
میں چاھے نظم کا ٹکڑا، وہ نثر پارہ ھو


"پروین شاکر"