جی ھی جی میں وہ جل رھی ھو گی
چاندنی میں ٹہل رھی ھو گی


چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر
اب وہ کپڑے بدل رھی ھو گی


سو گئی ہوگی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رھی ھو گی


سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ مرے ساتھ چل رھی ھو گی


چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رھی ھو گی


پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رھی ھو گی


نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رھی ھو گی


ھو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار
کتنی ھی دیر شل رھی ھو گی


"جون ایلیا"