"گذری ہُوئی راتیں"


نہ بُھولے گا ترا راتوں کو شرماتے ھُوئے آنا
رسیلی انکھڑیوں سے نیند برساتے ھُوئے آنا


رُخِ روشن کے جلووں سے سحر کا نور بن بن کر
اندھیری رات کے پردوں کو سرکاتے ھُوئے آنا


رُو پہلی چاندنی میں اپنی مستانہ خرامی سے
بہار و خواب کے سائے سے برساتے ھُوئے آنا


محبّت کے فرشتے کی طرح خاموش راتوں میں
فضا کو نکہت ِ گیسوُ سے مہکاتے ھُوئے آنا


ترے پازیب کی جھنکار کا آہستہ آہستہ
وہ دھیمی دھیمی لے میں گیت برساتے ھُوئے آنا


ترے ابریشمی ملبوس کا صرصر کے جھونکوں سے
سحابِ رنگ و بُو کی طرح لہراتے ھُوئے آنا


بدن اپنا چُرا لینا، کبھی نظریں جُھکا لینا
ھم آغوشی کے اندیشے سے گھبراتے ھُوئے آنا


شبِ تاریک کے خاموش نظّاروں کی بستی کو
شراب و نُور کی موجوں سے نہلاتے ھُوئے آنا


نگاہوں میں حیا،آنکھوں میں مستی،چال میں لغزش
مصوّر کے قلم کے خواب برساتے ھُوئے آنا


ھواؤں کا مہک اُٹھنا ،فضاؤں کا بہک اُٹھنا
وہ مہکاتے ھُوئے آنا ، وہ بہکاتے ھُوئے آنا


محل کے پاسباں خوابیدہ،شمعیں خواب دردیدہ
اور اے ملکہ ترے سائے کا شرماتے ھُوئے آنا


"اختر شيرانی"