ایسا نہیں کہ اُن سے محبّت نہیں رھی
جذبات میں وہ پہلی سی شِدّت نہیں رھی


ضعفِ قویٰ نے آمدِ پیری کی دی نوِید
وہ دِل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رھی


سر میں وہ اِنتظار کا سودا نہیں رھا
دِل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رھی


کمزوریِ نِگاہ نے سنجیدہ کر دیا
جَلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رھی


ہاتھوں سے اِنتقام لیا اِرتعاش نے
دامانِ یار سے کوئی نِسبت نہیں رھی


پیہم طوافِ کوچۂ جاناں کے دِن گئے
پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رھی


چہرے کو جُھرّیوں نے بھیانک بنا دیا
آئینہ دیکھنے کی بھی ہمّت نہیں رھی


اللہ جانے موت کہاں مر گئی "خمار"
اب مُجھ کو زندگی کی ضرُورت نہیں رھی


"خُماربارہ بنکوی"