"شکریہ اے قائدِ اعظم"


مل گیا مرکز ہمیں بخت آزمائی کے لیے
آئینہ ہم کو ملا جلوہ نمائی کے لیے


چھوٹ کر ہم کو قفس سے آشیانہ مل گیا
مضطرب تھا ذوقِ سجدہ آستانہ مل گیا


اب نہیں صیاد کوئی گلستاں آزاد ھے
بلبلیں آزاد ہیں، ہر نغمہ خواں آزاد ھے


بوئے گل آزاد ھے، رنگِ چمن آزاد ھے
سچ تو یہ ھے انجمن کی انجمن آزاد ھے


ذہن و دل آزاد ھیں، لوح و قلم آزاد ھیں
شکریہ اے قائدِ اعظم کہ ھم آزاد ھیں


حریت کا کارواں تیرے اشارے پر چلا
خارزاروں میں چلا، یا رہگزاروں پر چلا


حریت کا گیت گایا تو نے اس انداز سے
آگ نکلی خاکِ دل سے، سوز پھوٹا ساز سے


تیری دانش پر تصدق، تیری حکمت پر نثار
برھمن کی زیرکی، افرنگ کا عز و وقار


توڑ ڈالے تو نے بت اہلِ سیاست کے تمام
شکریہ اے قائدِ اعظم ترا، تجھ پر سلام


راہ کے کانٹے ہٹائے تو نے غور و فکر سے
دل شگفتہ ھو گئے لاکھوں چمن کے ذکر سے


مشعلِ منزل بنا ہر گام پر تیرا قدم
لٹتے پٹتے، گرتے پڑتے، آ گئے منزل پہ ھم


کاروانی کامیابِ جستجو ہو کر رھے
دشمنوں کے سامنے ہم سرخرو ھو کر رھے


مشکلوں کی جو خلیج آئی وہ آخر پَٹ گئی
شکریہ اے قائدِ اعظم کہ ظلمت چَھٹ گئی.


اے زھے حُسنِ تدبر، اے زھے عزم و ثبات
قافلے والوں کو آخر مل گئی راہِ نجات


"سیماب اکبرآبادی"