کوئی یہ کیسے بتائے

کہ وہ تنہا کیوں ھے؟؟
وہ جو اپنا تھا وھی
اور کسی کا کیوں ھے؟؟


یہی دُنیا ہے تو پِھر
ایسی یہ دُنیا کیوں ھے؟؟
یہی ھوتا ھے تو
آخر یہی ھوتا کیوں ھے؟؟


ایک ذرا ہاتھ بڑھا دیں
تو پکڑ لیں دامن
اس کے سینے میں
سما جائے ھماری دھڑکن


اتنی قُربت ھے تو پِھر
فاصلہ اِتنا کیوں ھے ؟؟


دلٍ برباد سے
نِکلا نہیں اب تک کوئی
ایک لُٹے گھر پہ
دیا کرتا ھے دستک کوئی


آس جو ٹُوٹ گئی
پِھر سے بندھاتا کیوں ھے ؟؟


تم مسرّت کا کہو
یا اِسے غم کا رِشتہ
کہتے ہیں پیار کا رشتہ
ھے جنم کا رِشتہ


ھے جنم کا جو یہ رِشتہ
تو بدلتا کیوں ھے؟؟


"کیفیؔ اعظمی"