یونہی تنہا تنہا نہ خاک اُڑا، مری جان میرے قریب آ
میں بھی خستہ دل ہوں تری طرح مری مان میرے قریب آ

میں سمندروں کی ہوا نہیں کہ تجھے دکھائی نہ دے سکوں
کوئی بھولا بسرا خیال ہوں نہ گمان میرے قریب آ
...
نہ چھپا کہ زخم وفا ہے کیا، تری آرزؤں کی کتھا ہے کیا
تری چارہ گر نہ یہ زندگی نہ جہان میرے قریب آ


 


تجھے ایسے ویسوں کی دوستی نے بہت خراب و خجل کیا
کسی جھوٹ کی یہ نقاب رُخ پہ نہ تان میرے قریب آ

جو نکل سکے تو نکال لے کوئی وقت اپنے لئے کبھی
مرے پاس بیٹھ کے رو تو لے کسی آن میرے قریب آ

نہ مکالمہ ہو نہ گفتگو فقط اتنا ہو کہ نہ میں نہ تو
ملیں صرف اپنے جلے ہوئے دل و جان میرے قریب آ
شاعر اعتبار ساجد