Results 1 to 2 of 2

Thread: Aik Nazam......

  1. #1
    Member Array carefree's Avatar
    Join Date
    Feb 2012
    Posts
    3,505
    Country: Canada
    Rep Power
    9

    Aik Nazam......

    میں اپنے آپ پہ جس وقت غور کرتا ہوں
    کہ چند سال مین کتنا بدل گیا ہوں میں
    تو مجھ کو آج بھی ہوتا ہے بار ہا محسوس
    کہ اپنے آپ سے آگے نکل گیا ہوں میں


     


    مری حیات کو تھا ناز جن سہاروں پر
    انہی کو میں نے بڑی سرکشی سے ٹھکرایا
    رہا ہے قلب کو اصرار جن کی عظمت پر
    انہی "عظیم روایات " پر ستم ڈھایا

    میں کہہ رہا ہوں ہر اک بزم میں ببانگ دہل
    خدائے قادر کن اب شعور ہے میرا
    مگر یہ طرز یہ اقرار اتنا سہل نہ تھا
    گواہ اس کا دل ناصبور ہے میرا

    نئے خیال ، نئے کلیے ، نئے افکار
    جب آئے بن کے مرے ذہن کے ندیم و حبیب
    تو وہم و عقل کی ہر کشمکش کے بدلے میں
    رہا ہے دل میں مرے مدتوں خلائے مہیب

    ہے یاد مجھ کو، روایت شکن فضاوں میں
    صنم کدوں کی تباہی کا جب اٹھا تھا سوال
    تو چیخ اٹھے تھے مری روح کے زمان و مکاں
    کہ ان کی پشت پہ صدیوں کا ہے وقار و جلال

    کسی کو بحث میں جب بھی شکست دی میں نے
    تو سینہ کوب رہیں بے شمار تاویلیں
    ملا بھی عقل کو منطق کی دوپہر میں سکوں
    دیار جاں میں مگر چیختی پھریں چیلیں

    شکست سحر و منار و کلس پہ ہو کے حزیں
    خرد کی سیج پہ کب سوئی ہیں مری آنکھیں
    بجھی ہے دل میں مرے جب بھی شمع وہم کوئی
    تو صبح و شام لہو روئی ہیں مری آنکھیں

    جلے ہیں جب بھی مرے جسم و جاں میں دیر و حرم
    تو ہڈیوں کے چٹخنے کا شور میں نے سنا
    ہنسا ہوں جب بھی کسی اعتبار مذہب پر
    تو سیل اشک امڈنے کا شور میں نے سنا

    کتاب وہم پہ کھینچا ہے جب خط تنسیخ
    لرز اٹھا ہے قلم ، کانپ اٹھا ہے دست جنوں
    لہو نچوڑ لیا جان کنی کی شدت نے
    کھرچ کے چھوڑ دیا رنج نے بہ حال زبوں

    کہا ہے مجھ سے مرے گھر کے ہر دریچے نے
    سکون زیست گنوانے پہ کیوں ہو آمادہ
    کہا ہے جاگتی راتوں میں مجھ سے بستر نے
    کہ عقل و ہوش کے کیوں ہو گئے ہو دلدادہ

    کبھی رہی ہے مری میز جیسے مجھ سے خفا
    کبھی خموش کتابوں نے احتجاج کیا
    کبھی ثواب نے گردن میں ڈال دیں بانہیں
    کبھی عذاب نے درس خرد شکار دیا

    میں مارا مارا پھرا اجنبی دیاروں میں
    کہ جیسے دسترس غم سے بھاگ جاوں گا
    ہر اک قدم پہ یہی وسوسہ سا رہتا تھا
    کہ ہر قدم پہ کئی بار لڑکھڑاوں گا

    میں اپنے آپ سے ڈرنے لگا ، الجھنے لگا
    ہر ایک بزم میں تنہا رہا وجود مرا
    کسی نے مجھ کو مری طرح کی پناہ نہ دی
    کہ میں نے اپنی پناہوں کو پھونک ڈالا تھا

    اور آج میں ہوں جو کہتا ہوں اک زمانے سے
    کہ میں حریف ہوں اوہام کے زمانے کا
    کسے خبر کہ مری جرات تکلم میں
    ہے کرب کتنے عقیدوں کے ٹوٹ جانے کا



  2. #2
    Member Array rabia iqbal rabi's Avatar
    Join Date
    May 2012
    Location
    Karachi, Pakistan, Pakistan
    Posts
    2,365
    Country: Pakistan
    Rep Power
    8
    new look of a nazm

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)







Similar Threads

  1. urdu - Lahore pay aik nazam
    By Tahir Bati in forum Shair-o-Shairi
    Replies: 1
    Last Post: 04-08-2013, 12:45 PM
  2. *^*^* Kal Raat.....(Urdu Nazam)
    By barish_badal in forum Inspirations
    Replies: 1
    Last Post: 05-08-2008, 11:50 PM
  3. Just A Minute.....(Urdu Nazam)
    By barish_badal in forum Inspirations
    Replies: 0
    Last Post: 04-27-2008, 04:07 PM
  4. Breaking Point......(Urdu Nazam)
    By barish_badal in forum Inspirations
    Replies: 0
    Last Post: 04-06-2008, 02:28 AM
  5. nazam
    By barish_badal in forum Sms Collection
    Replies: 0
    Last Post: 03-20-2008, 12:32 AM

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  



Get Daily Forum Updates

Get Most Amazing E-mails Daily
Full of amazing emails daily in your inbox
Join Nidokidos E-mail Magazine
Join Nidokidos Official Page on Facebook


Like us on Facebook | Get Website Updates | Get our E-Magazine