چاندنی رات، ٹھنڈی ہوا اور یادوں کی بارات
آرہا تھا یاد ہمیں تیرا حسیں وہ ساتھہ

جب ہوا دیدار تمہارا دور کھڑے تھے تم
خیا لوں میں ہی لے لیا،ہاتھہ میں تیرا ہاتھہ

تم نے کہا تھا آئوں گا اک دن ملنے تمہیں
بیٹھں ہیں انتظارمیں،ہوگی کب ملاقات

لازم نہیں جسے تم چاہو، مل ہی جائے تمہیں
کوئی نہ جانے اس میں کس کی جیت ہو یا مات


 


تھا کتنا فاصلہ رابی، دونوں کی منزل میں
راہ میں بچھڑا کون اور کس نے دیا ساتھہ


شاعرہ: رابعہ اقبال رابی