ذمانہ بات کرتا ہے میری تنہائی کی
تنہائی تو اپنی محفل ہے
آئینہ دل میں جھا نکا جب
اس میں تو سجی اک محفل ہے
اس محفل مہمان ہو تم
اور ہم بھی بہت ہی شاد ہیں
تم آکے چلے نہ جانا صنم
ارمانوں سے سجی یہ محفل ہے
تم آ ئے تو رونق سی لگی
یہ کلیاں کھلتی جاتی ہیں
آ ئے خزاں ان پر نہ کبھی
بہاروں سے سجی یہ محفل ہے
یہ چاند جو جھل مل کرتا ہے
ہر سمت ہے پھیلی چاندنی
آو کہ بیٹھیں چاندنی میں
تاروں کی سجی اک محفل ہے
رابی کی یہ باتیں کیسی ہیں
وہ خود بھی سمجھہ نہ پا تی ہے
تم آکے ذرا سمجھا جائو
با توں کی سجی یہ محفل ہے


 



شاعرہ: رابعہ اقبال رابی