اسلام علیکم : کوئی تو طریقہ چاہیے ہوتا ہے سیاست میں اپنی موجودگی کی گھنٹی بجانے کے لیے۔ سبھی حق کا انقلاب کا کہہ کر آتے ہیں۔ قادری نے بھی یہی کیا ہے۔ مجھے بتائیں
طویل مدت سے ملک پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں لیکن اس قادری کے کان پر جوں نہیں رینگی
چیف جسٹس کے ساتھ دھکم پیل ہوتی رہی لیکن اس قادری کو سانپ سونگ گیا۔
جامعہ حفصہ کی بچیوں کو فاسفورس بموں میں جلایا گیا یہ قادری چپ سادھے بیٹھا رہا
کراچی میں ہزاروں بندے قتل ہوتے رہے لیکن اس قادری کو کسی دھرنا کا خیال نہیں آیا۔
جب قادری کے مریدوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کینڈا کی شہریت لینے کی ضرورت ہی کیا ہے تو کہتے ہیں وہ ساری دنیا کے رہنما ہیں تو اس ساری دنیا کے رہنما کو برما کا قتل عام کیوں نظر نا آیا ؟ افغانستان، عراق میں امریکی ظلم و ستم کیوں نظر نا آئے؟ اس لیے کہ اس کے دوست ناراض نا ہو جائیں؟
کئی سالوں سے محبوس عافیہ صدیقی کا خیال کیوں نہیں آیا؟ کیونکہ اس میں بھی اس کے دوست ناراض نا ہو جائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہوتی رہی اس شخص کو دھرنا دینا کیوں یاد نہیں آیا؟ اس لیے کے کینڈا والے اسے اس کے گھر سے بے دخل نا کردیں؟
یہ سب باتیں مذہبی اختلافات نہیں ہیں۔ مذہب تو اس بندے کا جیسا ہے وہ کوئی بھی صیحح العقیدہ جج کر سکتا ہے وہ باتیں بعد کی۔
ہماری قوم کا یہی المیہ رہا ہے، شخصیت پرستی، اندھی تقلید، عمل دیکھے بنا باتوں کے جادو اور سہانے خوابوں کے سحر میں مبتلا ہو کر بھٹک جانے کے سوا کیا آتا ہے انھیں؟ جو دین پر رحم نا کرے وہ پاکستان کے حال پر کیا رحم کرے گا ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہاں ہمیں کتاب روشن کی آیات پر یقین ہےلیکن ہم جھو ٹ بولتے ہیں، کتاب روشن کے قوانین کو جھٹلاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔ کیا ایسے شخص کو مسلمان کہا جا سکتاجس کے لیے اسلامی قوانین قابل اعتماد نا ہوں؟ "بدی ہو اگر راستہ تو نیکی بنے سراب"۔۔۔ اج قادری اسلامی قوانین کے نفاز کے لیے دھرنا دے میں اس کی بدعات کو بھلا کر اس اس کے دھرنا میں شامل ہونگا لیکن نہیں یہ صرف اور صرف سیاست میں اپنی انٹری ڈالنے آیا ہے۔ اس کی جمہوریت پسندی یہ ہے کہ منہاج القرآن کی ساری قیادت اس کے بیٹوں،بیٹیوں اور اہلیہ کے پاس ہے۔ بندے میں قیادت کے لیے کردار اور اعمال بہت زیادہ اہم ہوتے ہیں، ورنہ دہشت گردی کی مذمت تو الطاف حسین بھی کرتا ہے۔
اللہ رحم کرے ہم پر۔ آمین
اسلام علیکم: شام بخیر


Abdul Basit Rajgotra