لطاف حسین کے اس بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ ایک ایسے پاکستانی نژاد برطانوی شہری کا بیان ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہو جہاں جمہوریت اور جمہوری اقدار کی ایک طویل تاریخ ہے۔ جہاں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے اور شاید ہی کوئی سیاسی رہنما اخبار نویسوں کو اس طرح مخاطب کرنے اور دھمکیاں دینے کے بارے میں سوچ سکتا ہو۔
ایم کیو ایم کے قائد نے خوب کہا کہ صحافیوں اور اینکرز کو اختلاف کرنے کا حق ہے لیکن بکواس کا نہیں۔ مگر نہیں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر یہ حق اینکرز کو حاصل نہیں تو اس کے جملہ حقوق کس کے پاس محفوظ ہیں۔