غزل
لطف دیتا ہے ستم پر ترا نازاں ہونا
کاش آئے نہ کبھی تجھ کو پشیماں ہونا
باعثِ رنج نہ ہو جائے یہ شاداں ہونا
اُن کی جانب سے تو باقی ہے ابھی ہاں ہونا
موت سے مل کے گلے سیکھ لو فرحاں ہونا
‘‘عیدِ نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا’’
میرا دل کہتا ہے روشن ہےمرا مستقبل
چھوڑ دو حال پہ تم میرے پریشاں ہونا
پھڑپھڑاتے ہیں کہ ہو جاےٴ رہائ حاصل
کون چاہے گا بھلا زینتِ زنداں ہونا
تجھ کو معلوم ہے بستی ہے مری جاں تجھ میں
مجھ سے برگشتہ کسی دم نہ مری جاں ہونا
چاہئے معنی و مفہوم کی نیرنگی بھی
صرف کافی نہیں الفاظ کا چسپاں ہونا
ان کا اندازِ ستم بھی کبھی دیکھو راغبؔ
پھر مرے حال پہ انگشت بدنداں ہونا
افتخار راغبؔ