جب یاد کا قصہ کھٕولوں تو کچھ دوست بٰہت یاد آتےھیں



میں گزرے پل کو سوچوں تو کچھ دوست بٰہت یاد آتےھیں



اب جانے کون سی بستی میں آباد ھیں جا کر مدت سے




 


میں رات گےء تھک جاوں تو کچھ دوست بٰہت یاد آتےھیں



کچھ باتیں تھیں پھولوں جیسی کچھ لہجے خوشبو جیسےتھے



میں شہر چمن میں ٹہلوں تو کچھ دوست بٰہت یاد آتےھیں



وہ پل بھر کی نارٕاضگیاں وہ مان بھی جاناپل بھرمیں



اب خود سے جب بھی روٹھوں تو کچھ دوست بٰہت یاد آتےھیں



سائمہ امیر