پانچ باتیں جن کی وجہ سے انسان گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے


 



1
۔ تنہائی اور فراغت نتیجہ شیطانی وسوسے

متقی وہ نہیں جس کی محفل پاک ہو ۔ متقی وہ ہے جسکی تنہائ پاک ہو ، تنہائی میں شیطان انسان کو وسوسے ڈالتا ہے اگر آپ اپنی تنہائی اور فراغت میں اپنے نفس کو اطاعت الہی میں مشغول نہیں کریں گے تو آپ کا نفس آپ کو اللہ کی نافرمانی میں مشغول کر وائے گا،
اس لیے تنہائی میں اللہ کا ذکر کرنے کو معمول بنا لیں

2
۔ غفلت اور سوچ و فکر کو شیطانی وسوسوں کے ساتھ چھوڑ دینا
نتیجہ گناہ میں مبتلا ہونا

اگر آپ دِل و دماغ کو اللہ کی یاد سے غافل رکھیں گے تو وہ شیطانی و نفسانی وسوسوں کی آماجگاہ بن جائے گا ، اور پھر ذہنی سوچ و فِکر بھی اُن وساوس کے ساتھ ہو کر چلنے لگتے ہیں ، اور پھر آپ گناہوں میں ملوث ہوتے ہوتے گناہ گار بن جائیں گے ،

3
۔ نظر کو کھلا چھوڑے رکھنا اور حرام اور باعث فتنہ چیزوں کے بارے میں سوچنا نتیجہ دل و دِماغ
کا گندہ ہونا اور پھر کسی مزید بڑے گناہ میں جا پھنسنا ،

نظر ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تِیر ہے ، ایسا تِیر جو چلانے والے کو دوسرے کی نسبت کہیں زیادہ گھائل کرتا ہے ، اور ابلیس کے زہر کا شکار بنا ڈالتا ہے، لہذا اگر آپ اپنی نظر کی حفاظت نہیں کریں گے تو اپنے دِل و دماغ کو بھی گناہ سے بچا نہیں پائیں گے ،

4
۔ دین داروں ، نیکوکار لوگوں کی صحبت سے دُوری اوردُنیاوی مشغولیت میں رہنا نتیجہ دِل و دماغ میں اللہ کے احکام کی اہمیت ختم ہونا

انسان اپنے نفس کے سامنے کمزور ہوتا ہے ، اور اللہ کی مشیئت سے اپنے اِیمان اور تقویٰ والے بھائیوں کی صحبت اللہ کے احکام کی اہمیت جانتا ہے ، اور اپنے نفس کو قابو کرنے کے گُر سیکھتا ہے ، اور قابو کرتا ہے ،
لہذا اگر آپ اپنے لیے صاحب اِیمان لوگوں میں سے تقویٰ والے لوگوں کی صحبت حاصل نہیں کریں گے تو اپنے نفس ،ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے وسوسوں میں بھٹک جائیں گے ،

5
چھوٹے گناہوں کو معمولی سمجھنا اور اپنی نیکیوں کو بہت جاننا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مزید نافرمانیوں میں پھنسنا اور نیکیوں سے دور ہونا


جو لوگ اپنے گناہوں کو گناہ ہی نہیں سمجھتے ، یا انہیں کچھ نقصان والا عمل نہیں سمجھتے ، یا صِرف اللہ تعالٰی کی رحمت اور مغفرت کے مل ہی جانے کے زعم میں رہتے ہیں ، اور جو کوئی چھوٹی موٹی نیکی کرتے ہیں اُسے بہت کچھ سمجھتے ہیں اور اس کے بدلے میں بہت اجر و ثواب ملنے کا خیال کیے رکھتے ہیں ، تو نتیجۃً وہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ناراضگی اور عذاب سے غفلت کا شکار ہوتے ہوتے ، مزید در مزید گناہوں میں دھنستا جاتا ہے ،
لہذا چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بچنے کی بھر پور کوشش کیا کیجیے ، اور اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی رحمت و مغفرت ، غصہ ، ناراضگی اور عذاب ، سب ہی صِفات کو ہمیشہ یاد رکھا کیجیے ،ان میں سے کچھ کو بھول جانا اور کچھ کو یاد رکھنا، یا کچھ کے مل جانے اور کچھ سے محفوظ رہنے کے زعم میں مبتلا رہنے سے بچا کیجیے ، تا کہ اللہ کی محبت، اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حاصل ہونے کی امید بھی رہے ، اور اس کی ناراضگی اور عذاب کا خوف بھی رہے ۔



یاد رکھیے وہ شخص جاھل ہوتا ہے جو اپنے نفس کے خیالات کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے بارے میں ایسی امیدیں لگائے ہوتا ہے جِن کی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہیں ہوتی ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو کو درست عقائد اپنانے اور ان کے مطابق درست عمل کرنے کی ہمت دے